Loading...

تیری توصیف کروں کیسے بیاں
Teri Toseef Karon Kaise Bayan

تیری توصیف کروں کیسے بیاں
میرے الفاظ میں طاقت ہے کہاں

مجھ میں ہمت ہے نہ طاقت اتنی
کیسے ڈھونڈوں تیری قدر کے نشاں

میرے مالک مجھے ہو جائے عطا
تیری الفت تیری چاہت کا نشاں

جو کرے تیری ثناء ہر پل
ہم کو یارب ہو عطا ایسی زباں

کون کہتا ہے تو نظر نہیں آتا
ذرے ذرے سے تو ہوتا ہے عیاں

دل کی دھڑکن یہ بتاتی ہے
نام اللہ ہے میرے دل میں نہاں

چھوڑ دو ذکر ستاروں کا قمر
ورد اللہ ہی سے ملتی ہے اماں

اسکالر سید محمد علی قمر

تو ظاہر و باطن ہے ذرا مجھ کو نظر آ
Tu Zahir-o-Batin He Zara Mujh ko Nazar Aa

تو ظاہر و باطن ہے ذرا مجھ کو نظر آ
یہ بے خبری ہے تو ذرا بن کے خبر آ

قربِ رگِ جاں ہے تو نظر کیوں نہیں آتا
میں بھی ترا بندہ ہوں مرے قلب میں در آ

کس طرح کروں بندگیِ شوق کا اظہار
پوجوں گا میں تجھ کو تو کبھی تو مرے گھر آ

نظروں میں چھپا لوں گا تیرے حسن کے جلوے
ظاہر نہ کروں گا میں کسی پر بھی نہ ڈر آ

میری بھی انا ہے میں نہ آؤں گا تیرے گھر
گر مجھ کو بلانا ہے تو پھر تو میرے گھر آ

تو میرے کسی حال سے غافل نہیں ہے
گر مجھ کو بچانا ہے تو پھر مجھ کو نظر آ

میں سر کے بل آ جاؤں گا تو دیکھ لے مجھ کو
بھولے سے کسی دن تو مجھے کہہ کہ قمر آ

اسکالر سید محمد علی قمر

اس طرح عشق کا حق ادا کیجئے
Is Tarah Ishq Ka Haq Ada Kijiye

اس طرح عشق کا حق ادا کیجئے
ہر گھڑی بس خدا ہی خدا کیجئے

منزلیں بڑھ کے چومیں تمہارے قدم
شرط ہے بس خدا کا کہا کیجئے

بھول کر غم ہستی کی ہر فکر کو
مست یادِ خدا میں رہا کیجئے

جامِ ہستی گناہوں سے لبریز ہے
اپنی بخشش کا کچھ آسرا کیجئے

بخش دے گا خدا ہے یہ دل کو یقیں
بس محبت کے سجدے ادا کیجئے

اپنی چاہت عطا کر دے ہم کو خدا
روز و شب بس یہی اک دعا کیجئے

بات بگڑی ہوئی بھی سنور جائے گی
اس کی رحمت کا بس آسرا کیجئے

آخرت کیلئے جب عمل شرط ہے
شعر گوئی پر کیوں اکتفا کیجئے

ہے خدا کی محبت کا دعویٰ قمر
اتباعِ رسولِ خدا کیجئے

اسکالر سید محمد علی

رحم کردے اﷲ کرم کردے ہم پر
Rehaim Karde Allah Karam Karde Ham Par

رحم کر دے اللہ کرم کر دے ہم پر
کرم کر دے اللہ رحم کر دے ہم پر

دیا ہے جو تو نے ہمیں علم و حکمت
عطاء کر اسے بھی سمجھنے کی طاقت
ناداں ہیں یارب تو حکمت سکھا دے
چھپے راز حکمت کے سارے بتا دے

رحم کر دے اللہ کرم کر دے ہم پر
کرم کر دے اللہ رحم کر دے ہم پر

جسے چاہے دے دے ہدایت قرآن کی
جسے چاہے دے دے تو دولت جہاں کی
ہدایت عطا کر دے قرآن کی ہم کو
تو دولت عطا کر دے ایماں کی ہم کو

رحم کر دے اللہ کرم کر دے ہم پر
کرم کر دے اللہ رحم کر دے ہم پر

زمیں بھی تو نے خزانے چھپائے
سمندر میں تو نے نگینے چھپائے
چھپے ان خزانوں کی کھوج اب سکھا دے
ترقی کے سارے ہی رستے دکھا دے

رحم کر دے اللہ کرم کر دے ہم پر
کرم کر دے اللہ رحم کر دے ہم پر

یہ شمس و قمر ہیں تیرے ہی خزانے
جو ان میں چھپا ہے کوئی کیا یہ جانے
عیاں راز یہ بھی تو ہم سے کرا دے
ہمیں علم و حکمت کا سورج بنا دے

رحم کر دے اللہ کرم کر دے ہم پر
کرم کر دے اللہ رحم کر دے ہم پر

اسکالر سید محمد علی

اﷲ ہو اﷲ ہو کہتے کہتے ہوئے
Allah Ho Allah Ho Kehte Kehte Hoye

اللہ ہو اللہ ہو کہتے کہتے ہوئے
اللہ ہو اللہ ہو کہتے کہتے ہوئے

غم کے طوفاں سے پار اتر جائیں گے
مشکلیں جو بھی ہیں ختم ہو جائیں گی
ہے یقیں دل کے سب زخم بھر جائیں گے
اللہ ہو اللہ ہو کہتے کہتے ہوئے
غم کے طوفاں سے پار اتر جائیں گے

تو ہی مالک ہے آقا ہے سلطان ہے
بخش دے ہم کو یا رب تو رحمٰن ہے
تجھ سا داتا کوئی دوسرا ہے کہاں
تیرا در چھوڑ کر ہم کدھر جائیں گے
اللہ ہو اللہ ہو کہتے کہتے ہوئے
غم کے طوفاں سے پار اتر جائیں گے

ہے دعا دینِ حق پر ہم چلتے رہیں
تیری رحمت کے سائے میں بڑھتے رہیں
فیضِ حق بس یونہی ہم پہ جاری رہے
تیری رحمت بنا ہم تو مر جائیں گے
اللہ ہو اللہ ہو کہتے کہتے ہوئے
غم کے طوفاں سے پار اتر جائیں گے

مانا ہم نے کہ سچ لکھنا دشوار ہے
کیا کریں جھوٹ سے دل یہ بیزار ہے
بس تیرا فیض ہو جائے ہم پہ اگر
اس کٹھن مرحلے سے گزر جائیں گے
اللہ ہو اللہ ہو کہتے کہتے ہوئے
غم کے طوفاں سے پار اتر جائیں گے

نورِ ایمانی ہم کو بھی درکار ہے
اے قمرؔ روشنی تیری بے کار ہے
نورِ حق بس یونہی ہم جاری رہے
راستے زندگی کے سنور جائیں گے
اللہ ہو اللہ ہو کہتے کہتے ہوئے
غم کے طوفاں سے پار اتر جائیں گے
مشکلیں جو بھی ہیں ختم ہو جائیں گی
ہے یقیں دل کے سب زخم بھر جائیں گے

اسکالر سید محمد علی قمرؔ